Home / Uncategorized / سلطان صلاح الدین ایوبی قسط نمبر 1

سلطان صلاح الدین ایوبی قسط نمبر 1

 “تم پرندوں سے دل بہلایا کرو سپاہ گری اس آدمی کے لیے
خطرناک کھیل ہے جو شراب اور عورت کا دلداہ ہو،،
 یہ الفاظ اپریل  1175 میں  صلاح الدین ایوبی نے اپنے چچازاد بھائی خلیفہ الصالح کے کے ایک امیر سیف الدین کو لکھے تھے  ان دونوں نے صلیبیوں کو  درپردہ مدد اورزیوروں کا لالچ دیا  اور صلاح الدین کو شکست دینے کی سازش کی تھی صلیبی یہی چاہتے تھے انہوں نے حملہ کیا الصالح اور سیف الدین نے ان کی مدد کی اور صلاح الدین ان دونوں کو شکست دی امیر سیف الدین اپنا مال و متاع چھوڑ کر بھاگ گیا  ان کی ذات خیمہ گاہ سے رنگ برنگ پرندے حسین اور جوان رقاصائیں اور گانے والیاں اور شراب کے مٹکے برآمد ہوئے صلاح الدین ایوبی نے پرندوں کو ناچنے والوں کو سب کو رہا کردیا اور امیر سیف الدین کو اس طرز کا خط لکھا

°°تم دونوں نے کفار کی مدد کر کے ان کے ساتھ میرا نام و نشان مٹانے کی کوشش کی مگر تم نے یہ نہیں سوچا کہ تمہاری ہے سارا عالم اسلام کا نام ہی مٹا سکتی ہے تم اگر مجھ سے اسد کرتے تھے تو مجھے قتل کروا دیا ہوتا تو مجھ پر دو قاتلانہ حملے کروا چکے ہو دونوں ناکام ہو چکے ہیں اب ایک اور کوشش کر کے دیکھو شاید کامیاب ہو جاؤ اگر تم مجھ سے وعدہ کرتے ہو کہ میرے مرنے کے بعد اسلام کو زندہ رکھو گے تو رب کعبہ کی قسم میں اپنا سر تمھارے تلوار سے قلم کر دوں گا اور یہ میں تمہیں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کوئی غیر مسلم مسلمان کا دوست نہیں ہو سکتا اپنا ماضی دیکھو شاہ فرینک اور ریمانڈ جیسے اسلامی دشمن صلیبی تمہارے دوست صرف اس لئے بنے کیوں  مسلمانوں کے ہاتھوں سے ہی مسلمان کو ختم کروانا چاہتے تھے اگر وہ کامیاب ہو جاتے تو اُن کا اگلا شکار آپ ہوتے۔ اور ان کا یہ خواب پورا ہو جاتا کہ اِسلام صفحہ ہستی سے مٹ جائے  تم جنگجو قوم کے فرد ہو فن سپاہ گری تمہارا قومی پیشہ ہے ہر مسلمان اللہ کا سپاہی ہے لیکن ایمان اور کردار بنیادی شرط ہے تم   پرندوں سے دل بہلایا کرو سپاہ گری اس آدمی کے لیے خطرناک کھیل ہے جو  عورت اور شراب کا دلدادہ ہو میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے ساتھ تعاون کرو اور میرے ساتھ جہاد میں شریک ہو جاؤ اگر یہ نہ کرسکوں تو میرے خلاف لڑنے سے باز آ جاؤ میں تمہیں معاف کردوں گا اللہ  تمہارے گناہ معاف کرے آمین
  صلاح الدین ایوبی
 ایک یورپی مورخ لکھتے ہیں کہ صلاح الدین ایوبی کے ہاتھ  بے تحاشہ مال غنیمت لگا جنگی قیدی بھی بے تحاشہ تھے صلاح الدین ایوبی نے تمام مال غنیمت تین حصّوں میں تقسیم کیا ایک ایسی جنگی قیدیوں کو دے کر انہیں رہا کردیا دوسرا اسحاق نے سپاہ غریبوں میں تقسیم کیا اور تیسرا حصہ مدرسہ نظام الملک دے دیا نہ خود کچھ رکھا نہ آپ نے کسی جرنیل کو دیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے جنگی قیدی جو مسلمان تھے یا غیر
مسلم جمع ہوکر آپ کی اطاعت قبول کر لی
(جاری ہے )

About world of fun

Check Also

سلطان صلاح الدین ایوبی قسط نمبر 5

اُدھر صلاح الدین اپنے نائبین کو سامنے بٹھائے یہ زہںن نشین کرا رہا تھا کہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *