Home / Uncategorized / سلطان صلاح الدین ایوبی قسط نمبر 2

سلطان صلاح الدین ایوبی قسط نمبر 2

 اس سے  پہلے حسن بن صباح کے پراسرار فرقے جنھیں یورپی مورخوں نے قاتلوں کا گرو لکھا ہے سلطان صلاح الدین ایوبی پارہ دو بار قاتلانہ حملے کرچکے تھے اور دونوں بار خدائے ذوالجلال نے اپنے اس بندے کو بچا لیا اس پر تیسرا قاتلانہ حملہ اس وقت ہوا جب وہ اپنے مسلمان بھائیوں اور صلیبیوں کی سازش کو شمشیر سے ریزہ ریزہ کر چکا تھا
 امیر سیف الدین میدان سے بھاگ گیا تھا لیکن وہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے خلاف حسد اور کینہ بازی سے باز نہ آیا اس نے حسن بن صباح کے قاتلوں کی مدد حاصل کی  یہ فرقہ ایک مدت سے سلام کی آستین میں سانپ بن کر پل رہا تھا ان کا مختصر تعارف یہ ہے کہ انہوں نے شہرت حاصل کرنے کے لئے ایک گروہ بنایا جو لوگوں کو طلسماتی  اور حسن کے طریقوں سے پھنساتے تھے اور بعد میں اُنھیں قتل کردیتے صلاح الدین ایوبی کون ہے شراب سے نہ حسین لڑکیوں سے دھمکایا جا سکتا تھا اسے قتل کرنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ اس پر قاتلانہ حملہ کیا جائے دو حملے تو ناکام ہوچکے تھے اب جبکہ صلاح الدین کو یہ امید تھی کے الصالح اور امیر سیف الدین توبہ کر چکے ہوں گے صلاح الدین ایوبی نے اس فتح کا جشن منانے کے بجائے تین اور قصبوں پر قبضہ کر لیا اس قصبے کے گردونواع ایک دن صلاح الدین ایوبی خیمہ میں سستا رہے تھے اس نے اپنی وہ پگڑی نہیں اتاری تھی جو میدان جنگ میں اُسے صحرا اور دشمن کی تلوار سے محفوظ رکھتی تھی خیمے کے باہر اس کے محافظوں کا دستہ چوکس تھا باڈی گارڈ کے اس دستے کا کمانڈر ذرا سی دیر کیلئے کہیں اور چلا گیا محافظ نے خیمے کے اندر جھانک کر آپ کو سوتے ہوئے دیکھا تو اپنے تین ساتھیوں کو اشارہ کیا اور دبے پاوں خیمہ کے اندر چلا گیا  کمر سے خنجر نکالا صلاح الدین پر وار کیا
آپ نے اسی وقت کروٹ بدلی  خوش قسمتی سے وہ خنجر آپ کی حفاظتی پگڑی میں لگا   آپ نے فورا مکا اس کے جبڑے پر مارا اور جبرا ٹوٹنے کی آواز سنائی دی  اتنی دیر میں صلاح الدین نے اپنا خنجر نکال لیا اور محافظوں کو آواز دی دو محافظ اندر آئےتو آپ نے انھیں اسے پکڑنے کو کہا   محافظوں نے اسے پکڑنے کے بجے آپ پر حملہ کردیا آپ نے ایک خنجر سے دو تلواروں کا مقابلہ کیا یہ مقابلہ صرف  ایک یا دو منٹ کا تھا کیونکہ باقی سارے محافظ اندر آگئے تھے کچھ دیر کی خونریزی کے بعد کچھ فدائی پکڑے گئے اور کچھ مارے گئے اپنے ایک قیدی کی گردن پر تلوار رکھ کر پوچھا کہ کس نے آپ کو بھیجا ہے تو اس نے گمشتگین کا نام لیا گمشتگین الصالح کے ایک قلعے کا گورنر تھا
 (جاری ہے)

About world of fun

Check Also

سلطان صلاح الدین ایوبی قسط نمبر 5

اُدھر صلاح الدین اپنے نائبین کو سامنے بٹھائے یہ زہںن نشین کرا رہا تھا کہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *