Home / Uncategorized / سُلطان صلاحُ الدّین ایُّوبی قِسط نمبر 4

سُلطان صلاحُ الدّین ایُّوبی قِسط نمبر 4

مصر میں صلاح الدین کا  استقبال جنہوں نے کیا ان میں  ناجی نام کا ایک سالار خصوصی اہمیت کا حامل تھا ایوبی نے  سب  کو سر سے پاؤں تک دیکھا اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور زبان پر پیار محبت کی چاشنی تھی یہ صلاح الدین ایوبی کے صرف نام سے واقف تھے یا اس کے متعلق یہ جانتے تھے کہ وہ عمران خاندان کا فرد اور اپنے چچا کا جانشین ہے وہ یہ بھی جانتے تھے کہ نورالدین زنگی کے ساتھ اس کا کیا رشتہ ہے ان کی نگاہ میں صلاح الدین کی عزت صرف ان کے خاندان کی بدولت تھی  یا فوجی وائسرائے بن کرآنے کی وجہ سے تھی اس کے علاوہ انہوں نے صلاح الدین کو کوئی عزت نہ دی ایک بوڑھے نے اپنے ساتھ کھڑے افسر سے کہا

 “بچہ ہے  پال لیں گے“
 البتہ جب وہ ناجی کے ساتھ مصافحہ کرنے کے لئے رکا تو ایوبی کے چہرے پر تبدیلی سی آ گئی تھی وہ ناجی سے ہاتھ ملانا چاہتا تھا  لیکن وہ دوسرے درباریوں کی طرح پہلے جُھکا پھر ایوبی سے بغل گیر ہو گیا اس نے آپ کی پیشانی چوم کر کہا میرے خون کا آخری قطرہ بھی تیری حفاظت کے لئے بہے گا تم میرے پاس زنگی کی علامت ہو میری جان اسلام سے زیادہ قیمتی نہیں آپ نے ناجی کا ہاتھ چوم کر کہا کہ اپنے خون کا ایک ایک قطرہ بچا کر رکھو صلیبی سیاہ  گھاٹی کی طرح اسلام پر چھانا چاہتے ہیں
 ناجی جواب میں صرف مسکرایا
 جیسے ایوبی نے کوئی لطیفہ سنایا ہو ناجی فاطمی سلطنت کا سالار تھا وہ مصر میں باڈی گارڈز کا کمانڈر تھا جس کی نفری پچاس ہزار تھی اور ساری کی ساری سوڈانی تھی جو اُس وقت کے جدید ہتھیار سے لیس تھی اور یہ فوج ناجی کا ہتھیار تھی جس کے زور پر وہ بے تاج بادشاہ بنا ببیٹھا تھا وہ سازشوں اور مفاد پرستی کا دور تھا اسلامی دنیا کی مرکزیت ختم ہو چکی تھی اس دور میں ناجی ایک ایسا کمانڈر تھا جو کسی کو بادشاہ بنا بھی سکتا تھا اور بادشاہت گرا بھی سکتا تھا
ایوبی کو آرام کرنے کا کہا گیا تو آپ نے کہا میں کام کرنے آیا ہوں آرام نہیں ایوبی کے دائیں بائیں ناجی اور اس کا نائب تھے ناجی نے ایوبی سے کہا ہم آپ کیلے سب کچھ کر سکتے ہیں آپ حکم کرو تو آپ نے کہا اگر آپ میرے لیے کچھ کرنا چاہتے ہو تو صلیبیوں کی لاشیں لاو صلیببی مسلمانوں کی سلطنت کو  چوہے کی طرح کھا رہے ہیں
کچھ دیر بعد ناجی آپ کے کمرے سے نکلا اور گھوڑے کو ایڑ لگا دی رات ناجی کے کمرے میں اس کے دو ساتھی کمانڈر اس کے ساتھ بیٹھے شراب پی رہے تھے جوانی کا جوش ہے تھوڑے دنوں میں ٹھنڈا کر دوں گا کم بخت جو بھی کرتا ہے کہتا ہےرب کعبہ کی قسم صلیبیوں کو سلطنت اسلامیہ سے نکالوں گا
“صلاح الدین ایوبی“ ایک کمانڈر نے طنزیہ کہا
اتنا بھی نہیں جانتا سلطنت اسلامیہ کا دم نکل چکا ہے اب سوڈانی حکومت کریں گے
کیا آپ نے اسے بتایا نہیں یہ پچاس ہزار ا لشکر سوڈانی ہے دوسرے کمانڈر نے پوچھا اور یہ لشکر جسے وہ اپنی فوج سمجھتا ہے صلیبیوں کے خلاف نہیں لڑے گا میں اسے ابھی یہ یقین دلا رہا ہوں کہ یہ سوڈانی آپ کے حکم کی تعمیل کریں گے
لیکن مجھے صلاح الدین نے مصر کے باشندوں کی فوج بنانے کو کہہ رہے ہیں میں نے کہا
آپ کا جو حکم
مزاج کا کیسا ہے اردش نے پوچھا
ضد کا پکا معلوم ہوتا ہے
آپ کی دانش اور تجربے کے سامنے تو کچھ نہیں ہو گا دوسرے کمانڈر نے کہا نیا نیا امیر مصر بنا ہے کچھ روز یہ نشہ طاری رہے گا
میں یہ نشہ نہیں اترنے دوں گا اسی میں بدمست کرکے ماروں گا ناجی نے کہا
 بہت دیر تک یہ تینوں  صلاح الدین کے خلاف باتیں کرتے رہے  اور اس مسئلے پر غور کرتے رہے اگر صلاح الدین نے ناجی کی بے تاج بادشاہت کیلے خطرہ پیدا کیا  تو وہ کیا کاروائی کریں گے

جاری ہے)
قسط نمبر 3 لنک
https://blogspotfuny.blogspot.com/2019/01/3.html?m=1

About world of fun

Check Also

سلطان صلاح الدین ایوبی قسط نمبر 5

اُدھر صلاح الدین اپنے نائبین کو سامنے بٹھائے یہ زہںن نشین کرا رہا تھا کہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *