Home / Uncategorized / سُلطان صلاح الدین ایوبی قسط نمبر 6

سُلطان صلاح الدین ایوبی قسط نمبر 6

سُلطان صلاح الدین ایوبی قسط نمبر 6

رات کا وقت تھا ناجی اپنے کمرے میں اپنے دو مُعتبر جونیئر کمانڈر کے ساتھ بیٹھا شراب پی رہا تھا دو ناچنے والیاں گانے پر ناچ رہی تھی اُن کے جسم پر بلکل کم کپرے تھے دربان اندر آیا اور ناجی کے کان میں کچھ کہا اس کی بات سنتے ہی نا جی کمرے سے باہر نکل گیا دربان اسے دوسرے کمرے میں لے گیا وہاں ایک بوڑھا سوڈانی ایک خوبصورت لڑکی کے ساتھ بیٹھا تھا ناجی کو دیکھ کر وہ اٹھی ناجی اس کا حُسن دیکھ کر حیران رہ گیاوہ عیار لڑکیوں کے زریعے بڑے افسروں کو اپنی مٹھی میں رکھتا تھا اکثر بیوپاری ناجی کے پاس ایسا مال لے کر آتے تھے
اس نے بتایا کہ لڑکی تجربہ کار ہے اور پتھر کو موم میں تبدیل کر سکتی ہے
ناجی نے سوچ لیا لڑکی کس کام آتی ہے اس نے سوچا لڑکی تھوڑی سی ٹریننگ کے بعد اُس کام کیلے مناسب ہو سکتی ہے ناجی نے ناچنے کو کہا تو وہ ایسا ناچی کہ ناجی کے ہوش اُڑ گئے ناجی نے کہا میں نے سنا ہے آپ پتھر کو موم میں بدل سکتی ہیں آپ میرا ایک کام کر دو نئے امیرِمصر کو اپنے جال میں پھنساو
ذکوئی نے پوچھا صلاح الدین
ہاں ناجی نے جواب دیا
اگر تُم اُسے پانی میں تبدیل کر دو تو تو جو مانگو گی ملے گا اس لڑکی کا نام زکوئی تھا ناجی نے زکوئی کو صلاح الدین کو پھنسانے کیلے تیار کر لیا تھا لیکن وہ اتنی خوبصورت تھی کہ ناجی خود اس کے جال میں پھنس گیا
ادھر علی بن سفیان نے صلاح الدین کا گارڈ کا دستہ تبدیل کر دیا ناجی کو یہ تبدیلی بلکل پسند نہ تھی لیکن اس نے پھر بھی آپ کی تعریف کی اور دعوت کیلے درخواست کی آپ نے رعوت قبول کر لی ناجی نے پھر شراب اور گانے کا پوچھا آپ اس کے خلاف تھے لیکن پھر بھی کہا آپ کی فوج ہے آپ کمانڈر ہو جیسا آپ کا دل چاہے
لیکن شراب پینے کی بعد اگر کوئی خرافات کی تو سخت سزا ملے گی جب ناجی نے سب کو اس بارے بتایا تو سب نے سوچا کہ ناجی نے صلاح الدین کو اپنے قابو میں کر لیا لیکن صرف علی بن سفیان کو ہی پتا تھا کہ آپ نے شراب اور رُقص کی اجازت کیوں دی ہے جشن کی شام آ گئی چاندنی رات تھی خوبصورت منظر تھا
ادھر علی بن سفیان ،صلاح الدین کے گارڈ کھڑے کر رہا تھا
اُدھر ناجی زکوئی کو آخری ہدایات دے رہا تھا
جاری ہے بقیہ کل

About admin

Check Also

سُلطان صلاحُ الدّین ایُّوبی قِسط نمبر 4

مصر میں صلاح الدین کا  استقبال جنہوں نے کیا ان میں  ناجی نام کا ایک …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *